ریاض (رم نیوز)حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں جس تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں، ان میں ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون عالمی مبصرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کا حالیہ دورہ ریاض محض ایک روایتی دورہ نہیں تھا، بلکہ یہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک نئی اور بلند ترین سطح پر لے جانے کے عزم کا اظہار ہے۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال سے لے کر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ طویل ملاقات تک، صدر اردگان کے اس دورے کا محور 'مستقبل کی شراکت داری' رہا۔ ترکیہ اب سعودی عرب کے ساتھ محض تجارتی تعلقات تک محدود نہیں رہنا چاہتا، بلکہ دفاعی صنعت اور قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ تعاون نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو سہارا دے گا بلکہ خطے کو دفاعی طور پر خود کفیل بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
اس ملاقات کا ایک اہم ترین پہلو شام کی صورتحال پر دونوں رہنماؤں کا ہم آہنگ ہونا تھا۔ صدر اردگان نے واضح کیا کہ ترکیہ، شام میں امن و استحکام کے لیے سعودی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں شام کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور وہاں کی تعمیرِ نو کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، شام کی سرزمین پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی گئی اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔
سعودی عرب اور ترکیہ نے دنیابھر کے طاقتورممالک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک بار پھر غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ترکیہ نے یمن کے بحران کو حل کرنے کے لیے سعودی عرب کے 'جامع مذاکرات' کی تعریف کی، جس نے مختلف دھڑوں کو ایک میز پر اکٹھا کیا۔ دونوں طاقتوں نے سوڈان میں سویلین حکومت کی فوری بحالی اور سیاسی عمل کے آغاز پر زور دیا۔
سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان یہ قربت اس بات کی نوید ہے کہ اب خطے کے فیصلے مقامی طاقتیں مل کر کریں گی۔ دفاعی پیداوار سے لے کر سفارتی محاذ تک، انقرہ اور ریاض کا اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔